نئی دہلی3ستمبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) کانگریس نے جمعرات کے روز جی ڈی پی کی شرح نمو اور بے روزگاری پر حکومت پر ملک کو معاشی بے راہ روی کی طرف دھکیلنے کاالزام عائد کیا اور کہا کہ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کو خود ہی اس معاشی تباہی پراستعفیٰ دیناچاہیے یا وزیر اعظم نریندر مودی ان کو برطرف کردینا چاہیے۔
پارٹی کے چیف ترجمان رندیپ سورجے والا نے بھی کہا کہ موجودہ صورتحال میں حکومت کے اندر'بڑے سیاسی اور مالی سرجری' کی ضرورت ہے۔سرجے والا نے جی ڈی پی، بیروزگاری اور جی ایس ٹی کے بقایا جات کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے نامہ نگاروں سے کہا کہ آج پورے ملک میں معاشی تباہی کااندھیراہے۔ معاش، روٹی، روزگار ختم ہوچکا ہے اورکاروبار اور صنعتیں رک چکی ہیں۔ معیشت برباد ہو چکی ہے اور جی ڈی پی مائنس پرہے۔
ملک کو معاشی ہنگامی صورتحال کی طرف بڑھایا جارہا ہے۔وزیر خزانہ کے ایکٹ آف گاڈکے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے دعویٰ کیاہے کہ مودی حکومت، جس نے 6 سالوں سے ایکٹ آف فراڈ کے ذریعہ معیشت کو ڈوبویا ہے، اب اسے ایکٹ آف گاڈ یعنی خدا کی ذمہ داری سونپی گئی ہے وہ اس کا پیچھا چھڑانا چاہتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ جو لوگ خدا کو بھی دھوکہ دے رہے ہیں وہ انسان اورمعیشت کو کہاں بچائیں گے!۔ان کے بقول، 73 سالوں میں پہلی بار، پہلی سہ ماہی میں جی ڈی پی کی شرح مائنس 24 فیصد رہ گئی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ملک کی اوسطاََآمدنی میں زبردست کمی ہوگی۔ اگر جی ڈی پی میں پورے سال میں منفی 11 فیصد کمی واقع ہوتی ہے تو عام لوگوں کی آمدنی میں اضافے کی بجائے سالانہ آمدنی میں 14900 روپے کی کمی ہوگی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ لوگوں کا اعتماد حکومت سے مکمل طورپرختم ہوگیاہے۔چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں سے پوچھیں، وہ بتائیں گی کہ بینک نہ تو قرض دیتے ہیں۔ مودی سرکار کا 20 لاکھ کروڑ کاجملہ اکنامک پیکیج ڈوبتی معیشت، معاشی تباہی اور گرتی ہوئی جی ڈی پی کو روکنے میں بھی ناکام رہاہے۔کانگریسی لیڈرنے دعویٰ کیا کہ 73 سالوں میں پہلی بارمرکزی حکومت کو نادہندہ قرار دیا گیا ہے۔
11 اگست 2020 کو سیکرٹری خزانہ نے پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مالیاتی امور سے واضح طور پرکہاکہ حکومت ہند صوبوں کو جی ایس ٹی میں شریک نہیں کرسکتی ہے اور صوبوں کو قرض لے کر کارروائی کرنی چاہیے۔انہوں نے کہاہے کہ کیا ملک کو اس صورتحال میں لانے کے لیے وزیر اعظم اور وزیر خزانہ کو اپنے عہدوں پر رہناچاہیے؟ میں اسے سوالیہ نشان میں ملک کے عوام کی صوابدید پر چھوڑ دیتا ہوں۔ایک اور سوال کے جواب میں، سورجے والانے کہاہے کہ حکومت میں بڑے سیاسی اور مالی سرجری کی ضرورت ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ اس طرح کے وزیر خزانہ کو اس عہدے پر نہیں چلنا چاہیے جو اس معاشی تباہی کی ذمہ دارہیں۔انھیں خود مستعفی ہوجانا چاہیے یا وزیر اعظم انہیں برخاست کریں۔ کانگریس کے چیف ترجمان نے کہاہے کہ معیشت کوپٹری پرلانے کے لیے حکومت کو سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کے تجویز کردہ اقدامات پر عمل کرنا چاہیے جس میں لوگوں کے کھاتے میں رقم ڈالنے کی تجویزنمایاں ہے۔